واشنگٹن(ویب ڈیسک)فیس بُک کے بانی مارک زکر برگ امریکی کا نگریس میں پیش ہونے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ متواتر روابط کے بعد 33 سالہ زکربرگ نے فیصلہ کیا کہ و ہ کانگریس میں گواہی دیں گے۔مارک زکر برگ پر سوشل نیٹ ورکنگ کی رازداری کے حوالے سے الزامات ہیں جبکہ عوامی
سطح پر بالخصوص قانون دانوں اور میڈیا کی طرف سے بھی شدید دباؤ تھا۔امریکی سینیٹ نے 10 اپریل کو ڈیٹا رازداری کے حوالے سے سرکاری طور پر تینوں کمپنیز کے سی ای او کو بلایا ہے۔ زکر برگ کی پیشی کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے تاہم وہ آج برطانوی پارلیمانی کمیٹی میں پیش نہیں ہوئے تھے۔یاد رہے گزشتہ دنوں ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر ٹرمپ کی اینالسس فرم کیمبرج اینالیٹکا نے پانچ کروڑ سے زائد صارفین کی ذاتی معلومات ایک ایسے سافٹ ویئر بنانے میں استعمال کیں جس کے ذریعے سے صدارتی انتخابات میں ووٹرز کا رجحان بتانے اور انتخابی نتائج سے متعلق پیش گوئیاں کی جاتی تھیں۔ اینالسس فرم کی ڈیٹا چوری کو فیس بک کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈیٹا چوری کہا جا رہا ہے۔یاد رہے فیس پر پرائیوسی کو لاحق خطرات اور اس حوالے سے کنٹرول ہمیشہ تبدیل ہو رہے ہوتے ہیں۔ جب آپ اپنی یا اپنے بچوں کی کوئی تصویر فیس بک پر لگاتے ہیں تو آپ کے کون سے فیس بک دوست اسے دیکھ سکتے ہیں یا شیئر کر سکتے ہیں؟ یا گیمز سمیت جو ایپلی کیشنز آپ نے فیس بک پر انسٹال کی ہیں وہ آپ کی کون کون سی
اور کس قسم کی معلومات کسی تیسرے فریق کے لیے جمع کر رہی ہیں ؟آپ اس بات کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں کہ جو ویڈیو آپ فیس بک پر لائیو کرتے ہیں صرف وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں جنہیں آپ نے منتخب کیا ہو؟جب بھی آپ فیس بک پر کوئی کلک یا کام کرتے ہیں تو اس میں شیئرنگ اور پرائیویسی کے مضمرات ہوتے ہیں جنہیں آپ کو اپنی اگلی کوئی بھی پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے ذہن میں رکھنا چاہیے۔خوش قسمتی سے فیس بک صارفین کے مسلسل مطالبے اور دنیا بھر میں مختلف حکومتوں کے قوانین کی وجہ سے فیس بک نے پرائیوسی کے کنٹرول کو کافی آسان بنایا ہے۔یہاں ہم آپ کو فیس بک پرائیوسی کنٹرول کرنے کے حوالے سے بنیادی معلومات فراہم کر رہے ہیں:واضح رہے کہ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق برطانوی الیکشن کنسلٹنسی فرم کیمبرج اینالیٹیکا نے کروڑوں فیس بک صارفین کی ذاتی معلومات حاصل کرکے اسے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں الیکشن پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا۔اس حوالے سے برطانوی اور یورپی ادارے فیس بک اور کیمبرج اینالیٹیکا کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں کہ کیا 2016 میں امریکی صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی کامیابی اور برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے ہونے والے ریفرنڈم ‘بریگزٹ’ کو ممکن بنانے کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کا ڈیٹا چوری کرکے نتائج کو متاثر کیا گیا۔اس حوالے سے دونوں کمپنیوں کی جانب سے کسی بھی غلط کام کی تردید کردی گئی۔دوسری جانب بانی فیس بک مارک زکربرگ نے بھی اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان تمام ایپلیکیشنز کی تحقیقات ہوں گی جو 2014 سے قبل دستیاب تھیں۔(ذ،ک)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2pKYOUS
via IFTTT

No comments:
Write komentar