بیجنگ(ویب ڈیسک) شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے اہلیہ کے ساتھ پہلاغیرملکی چین کا دورہ کیااورچین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جس میں مقامی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شمالی کورین سربراہ کم جونگ ان نے چینی صدرکوشمالی کوریاکے دورے کی دعوت بھی دی
جوشی جن پنگ نے قبول کرلی۔خبررساں ایجنسی کے مطابق چینی صدرکی دعوت پرکم جونگ ان نے25سے28مارچ تک بیجنگ کادورہ کیا، شمالی کوریا رہنما کم جونگ ان اتوار کے روز چین کے دورے پر بیجنگ پہنچے، چینی صدر اور شمالی کوریا رہنما کم جونگ ان میں بیجنگ میں ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماو¿ں کے درمیان ملاقات میں مختلف امور زیر غور آئے، دورے کے دوران کم جونگ ان کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کوریا کے رہنما کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کےلئے پرعزم ہیں، جنوبی کوریا اور امریکا اس حوالے سے شمالیکوریا کی کاوشوں کا خیر سگالی کے ساتھ جواب دیں، خطے میں امن اور استحکام کا ماحول پیدا کیا جائے۔ چینی صدر شی چن پنگ کا کہنا تھا کم جونگ ان کے دورے پر ان کے مشکور ہیں، شمالی کوریا کے سربراہ کا دورہ چین خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔سپریم لیڈر بننے کے بعد کم جونگ ان کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے، ان کے دورہ چین کو امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان پیدا صورتحال کے تناظر میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے دوران
اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرپرائز دورے پر 3 روز کے لئے آنے والے شمالی کوریا کے سربراہ کی بیجنگ سے روانگی کے بعد چینی خبر ایجنسی نے دورے کی خبر جاری کی جب کہ شمالی کوریا نے بھی سپریم لیڈر کی دورہ چین کی تصدیق کی۔چینی صدر شی جن پنگ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جانگ ان کے درمیان ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقاتیں ہوئی جس میں کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یاد رہے کہ 2011 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد شمالی کوریا کے لیڈر کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا جس کے دوران ان کی اہلیہ اور دیگر حکام ہمراہ تھے۔چینی خبر ایجنسی کے مطابق کم جانگ ان نے امریکا کے ساتھ سربراہ ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا جب کہ انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے عزم کا اظہار بھی کیا۔کم جانگ ان کا کہنا تھا کہ جزیرہ نما کوریا سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے، جنوبی کوریا اور امریکا ہماری کوششوں کا خیرسگالی کے ساتھ جواب دیں۔شمالی کوریا کے سربراہ نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کا ماحول پیدا کیا جائے جب کہ چینی صدر سے بھی ملاقات
کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کم جانگ ان نے کہا کہ اخلاقی ذمے داری محسوس کی کہ کوریائی صورتحال سے صدر شی کو خود آگاہ کروں، سال نو کے آغاز سے کوریا کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خطے سے جوہری ہتھیار ختم کرنے کے عزم پر قائم ہیں اور یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔چینی صدر شی جن پنگ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ بیجنگ پیونگ یانگ تعلقات دونوں ممالک کے لیے بیش قیمت دولت ہیں۔دوسری جانب شمالی کورین میڈیا کے مطابق دونوں سربراہان مملکت کے درمیان ملاقات کے دوران جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ کم جانگ ان نے چینی صدر کو دورے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی۔کم جانگ ان کا سرپرائز دورہ۔کم جانگ ان وفد کے ہمراہ 25 مارچ کو سرپرائز دورے پر بذریعہ ٹرین بیجنگ پہنچے جب کہ ٹرین کے حوالے سے میڈیا میں خبریں زیرگردش تھیں کہ یہ اُسی طرح کی ٹرین تھی جس میں ان کے آنجہانی والد کم جانگ 2 نے 2011 میں چین کا دورہ کیا تھا۔چینی وزارت خارجہ نے کم جانگ ان کے دورہ چین سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا تھا، اور گزشتہ روز میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں کم جان انگ کے دورہ چین کے حوالے سے کوئی علم نہیں، اگر اس طرح کی کوئی اطلاعات آئیں تو میڈیا پر لایا جائے گا۔کم جان انگ کے دورہ چین سے متعلق خبروں کو امریکا، برطانیہ اور مغربی میڈیا میں بھی خصوصی کوریج دی گئی اور اس دورے کو خفیہ دورہ قرار دیا گیا۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کی وجہ سے مذاکرات کا ماحول پیدا ہورہا ہے۔(ذ،ک)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2pKM9R6
via IFTTT

No comments:
Write komentar