Technology

Ads

Most Popular

Thursday, 29 March 2018

اداروں کے کام میں مداخلت کا روایتی فارمولہ ۔۔۔ احد چیمہ کو بچانے کیلیے ایک آزمودہ ڈرامہ رچا دیا گیا

 

لاہور(ویب ڈیسک)آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم سکینڈل میں گرفتار سابق ڈی جی ایل ڈی احد چیمہ کوطبیعت خرابی کے باعث پنجاب کارڈیالوجی ہسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹرز ان کا طبی معائنہ کریں گے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا 2 رکنی بنچ سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کی گرفتاری کے

خلاف دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ آج سنائے گا،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

دوران سماعت نیب کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا تھا کہ احد چیمہ 3 اپریل تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہے، احد چیمہ کی گرفتاری قانون کے مطابق کی گئی۔احد چیمہ کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ احد چیمہ انکوائری کے دوران نیب سے مکمل تعاون کر رہے تھے لیکن اس کے باوجود نیب نے احد چیمہ کو گرفتار کرلیا لہذا عدالت احد چیمہ کی گرفتاری کو کالعدم قرار دے۔دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر فاروق ستار کو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی کنوینر شپ سے ہٹانے سے متعلق الیکشن کمیشن کا 26 مارچ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین سے 11 اپریل تک جواب طلب کرلیا۔یاد رہے کہ پارٹی قیادت کے تنازع پر ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں دھڑوں بہادر آباد اور پی آئی بی گروپ نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا۔رواں ہفتے 26 مارچ کو الیکشن کمیشن نے بہادر آباد گروپ کے خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید جمیل کی درخواستیں منظور

کرتے ہوئے پی آئی بی گروپ کے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دے کر ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیو ایم پاکستان کی کنوینر شپ سے ہٹا دیا تھا۔تاہم فاروق ستار نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ‘سیاہ، غیر آئینی اور غیر منصفانہ ‘ قرار دیتے ہوئے اسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔ڈاکٹر فاروق ستار کی درخواست پر آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔سماعت کے دوران فاروق ستار کے وکیل بابر ستار ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کو پارٹی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں جبکہ الیکشن کمیشن میں ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار کے نام سے رجسٹرڈ پارٹی ہے۔بابر ستار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کسی دوسرے شخص کی پارٹی سربراہی کے دعوے پر الیکشن کمیشن کو سماعت کا اختیار نہیں، پارٹی سربراہی کا دعویٰ کرنے والا شخص سول عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کہے تو دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کو تیار ہیں۔سماعت کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے فاروق ستار کو کنوینر شپ سے ہٹانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا اور الیکشن کمیشن، خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید جمیل سے 11 اپریل تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔(ذ،ک)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2pQXFdF
via IFTTT

No comments:
Write komentar