اس کہتے ہیں خفیہ صحافت۔۔۔ 2 دن قبل لاہور میں کونسی سیاسی جماعت بنائی گئی اور اس میں کون کون سے نام شامل ہیں؟ حامد میر کے خبر بریک کر تے ہی پاکستانی سیاست میں ہلچل مچ گئی ۔۔۔۔۔۔لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے
معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کا خطرہ بڑھ رہا ہے کیونکہ جو ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں ہیں ، انہوں نے پاکستان کے بڑے قومی مسائل کو نظر انداز کر دیا ہے اور وہ اپنے اپنے مفاد کی سیاست کر رہی ہیں اور اپنے منشور سے ہٹی ہوئی ہیں۔ خاص طور پر گذشتہ 3 سے 4 سال میں تحریک انصاف کی جو سیاست ہے ، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اندر بندے موجود ہیں لیکن وہ قانون سازی میں دلچسپی نہیں رکھتے۔وہ باہر آ کر بیان بازی کرتے ہیں اور نان ایشوز کو ایشوز بنانے کی کوشش کر تے ہیں۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کی کارگردگی سندھ میں گورنرز کے حوالے سے کافی مایوس کُن ہے۔ مرکز میں پیپلز پارٹی نے جو موقف اختیار کیا اس
سے پیپلز پارٹی کے امیج کو نقصان پہنچا ہے اور لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ پُرانی پیپلز پارٹی ہے، مسلم لیگ ن کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف بچاﺅ تحریک ہے اس صورتحال میں ایک خلا پیدا ہو اہے جس کو پُر کرنے کے لئے بہت سی قوتیں سرگرم ہیں ، بہت سے لوگ نئی پارٹیاں بنا رہے ہیں۔
صرف بلوچستان میں ہی نئی پارٹی نہیں بنی ، بلکہ پشاور کے ایک اخبار مشرق اخبار کے فرنٹ پیج پر ایک اشتہار شائع ہوا ، جس میں نئی پارٹی کا اعلان ہوا ہے اور اس کے منشور کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ دو تین دن قبل لاہور میں بھی ایک لیفٹ فرنٹ بنا ہے، جو لیفٹ کی پارٹیاں ہیں وہ مل کر الیکشن لڑنے کی تیاریاں کر رہی ہیں، ایم ایم اے بھی سر اُٹھا رہی ہے۔بڑی پارٹیوں نے اپنا منشور نظر انداز کیا ہے، ان کے جو پُرانے ورکرز ہیں وہ ان سے ناراض ہیں، ان میں گروپنگ بہت زیادہ ہے۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن میں بے حد گروہ بندی ہے، پیپلز پارٹی پنجاب میں تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2GdZJaG
via IFTTT

No comments:
Write komentar