کراچی(ویب ڈیسک) بیرون ملک فرار کیس میں جیل حکام نے شاہ رخ جتوئی کو عدالت میں پیش کرنے سے انکار کردیا۔شاہ رخ جتوئی پھانسی کا مجرم ہے محکمہ داخلہ نے نقل وحرکت پر پابندی عائد کی ہے, جیل حکام۔کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کی عدالت میں شاہ زیب قتل کیس کے
سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی کے خلاف بیرون ملک فرار کیس کی سماعت ہوئی۔ جیل حکام نے مجرم شاہ رخ جتوئی کو عدالت میں پیش کرنے سے ایک بار پھر انکار کردیا۔جیل حکام نے موقف اختیار کیا کہ شاہ رخ جتوئی پھانسی کا مجرم ہے محکمہ داخلہ نے اس کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کی ہے، مقدمے کو حساس قراردیا جاچکا ہے، اس لیے اسے عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔ جیل حکام جج کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے اور عدالت نے کہا کہ اس حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر نے جیل سپرنٹنڈنٹ ملیر کو دوبارہ شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر شاہ رخ جتوئی کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ ملیر کو بھی ذاتی طور پر طلب کرتے ہوئے بیرونِ ملک فرار کیس کی سماعت 21 اپریل تک ملتوی کردی۔شاہ رخ جتوئی کو کیا بیماری ہے اسے اسپتال کیوں منتقل کیا گیا، چیف جسٹس ۔یاد رہے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے شاہ رخ جتوئی کو اسپتال منتقل کرنے کانوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ اور آئی جی جیل خانہ جات سے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی۔چیف جسٹس پاكستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے شاہ رخ
(ن) لیگی حکومت کا بڑا یو ٹرن، وزیر اعظم کے فیصلے نے شریفوں کی سیاست کو بڑا دھچکا دے دیا
جتوئی كی جیل سے اسپتال منتقلی كا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ شاہ زیب قتل کیس میں زیرحراست شاہ رخ جتوئی کو کیا بیماری ہے، اسے اسپتال کیوں منتقل کیا گیا، چیف جسٹس نے آئی جی سندھ اور آئی جی جیل خانہ جات سے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب كرلی۔واضح رہے كہ یكم فروری كو سپریم كورٹ نے شاہ زیب قتل كیس میں سندھ ہائی كورٹ كی طرف سے دہشت گردی كی دفعات ختم كرنے كا فیصلہ كالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمے میں ضمانت پر رہا ہونے والے ملزمان كی گرفتاری كا حكم دیا تھا جس پر 3 ملزمان شاہ رخ جتوئی، سراج تالپوراورسجاد تالپور كو احاطہ عدالت سے گرفتاركرکے اگلے روز كراچی كی سینٹرل جیل میں منتقل كیا گیا جہاں چند روز قبل ملزم شاہ رخ جتوئی كوکمر کی تکلیف کی شکایت پر جناح اسپتال منتقل كیا گیا۔(ذ،ک)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2GiMGR8
via IFTTT

No comments:
Write komentar