پشاور(ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) نےخیبرپختونخوا پولیس میں اربوں روپے کے گھپلوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔نمائندہ جنگ ارشد عزیز ملک کے مطابق ڈی جی نیب خیبرپختونخوا فرمان اللہ نے بتایا کہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈجاوید اقبال نے جانچ پڑتال کی منظوری دے دی ہے۔ نیب ہیڈ کوارٹرز سے۔
جاری خط کے مطابق سابق آئی جی پی خیبرپختونخوا ناصر خان درانی کے دور میں 2013ء سے 2017ء تک خیبرپختونخوا پولیس میں اربوں روپے کے گھپلے ہوئے، ٹریفک پولیس کیلئے آلات کی خریداری، پولیس اسسٹنٹس لائنز کی تعمیر، پولیو ویکسی نیشن مہم کی سکیورٹی کیلئے ملنے والے فنڈز، سی ٹی ڈی کیلئے فرنیچر و دیگر سامان کی خریداری، ایس ایم ایس سروسز کے معاہدوں اور پولیس کے زیر نگرانی چلنے والے اسکولوں کے فنڈز میں گھپلوں اور پٹرول کے جعلی بلز بنائےجانے کی شکایات ہیں۔اسلام آباد: سپریم کورٹ نے میمو گیٹ کیس میں امریکا میں تعینات سابق سفیر حسین حقانی کو وطن واپس لانے کے لئے حکومت کو ایک ماہ کا وقت دے دیا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے میمو گیٹ کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘حسین حقانی کی واپسی سے متعلق ابھی تک مثبت پیش رفت نہیں ہوئی، انہیں کب تک وطن واپس لایا جائے گا’۔جس پر سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ امریکا سے دستاویزات گزشتہ روز واپس آچکی ہیں جب کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت ہمیں ایک موقع فراہم کردے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ‘ہم نے سیکریٹری خارجہ اور سیکریٹری
داخلہ کو متفرق درخواستوں کے لئے نہیں بلایا’۔چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے مکالمے کے دوران کہا کہ ‘بتا دیں کہ کتنے دنوں میں نتائج دے سکتے ہیں’ جس پر ان کا کہنا تھا کہ حسین حقانی کی واپسی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ڈی جی ایف آئی نے کہا کہ دائمی وارنٹ کے اجراء کے بعد ریڈ وارنٹ کیلئے انٹرپول سے رابطہ کریں گے، میں خود بھی امریکا جاؤں گا اور وہاں وکیل کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پاکستان کی 3 ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے میمو کمیشن فیصلہ دیا لیکن اس پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوا۔چیف جسٹس نے میڈیا پر کیس کے حوالے سے تبصروں پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر تبصرے کیے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ میمو گیٹ کیس کو دوبارہ سن کر کون سے گڑھے مردے اکھاڑے جارہے ہیں، ہم گڑھے مردے نہیں قانون پر عمل درآمد یقینی بنارہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ‘میں سوچ رہا ہوں زیر التواء مقدمات پر میڈیا کے تبصروں پر پابندی لگاؤں،بلا لیتے ہیں ان کو جنہیں رائے دینے کا بہت شوق ہے’۔چیف جسٹس نے کہا کہ پتا کچھ ہوتا نہیں اور آئین و قانون پر تبصرے کرنے بیٹھ جاتے ہیں اور سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں کیوں نہ زیر التواء مقدمات پر میڈیا پر تبصروں پر پابندی لگائی جائے۔سپریم کورٹ نے حصین حقانی کو وطن واپس لانے کے لئے حکومت کو ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ حسین حقانی کی واپسی کے لئے مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔عدالت نے سماعت ایک ماہ کے لئے ملتوی کردی۔ (ذ،ک)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2GdMp6d
via IFTTT

No comments:
Write komentar