اسلام آباد(ویب ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی کنوینر شپ کے معاملے سے متعلق الیکشن کمیشن کا 26 مارچ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔یاد رہے کہ پارٹی قیادت کے تنازع پر ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں دھڑوں بہادر آباد
اور پی آئی بی گروپ نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا۔رواں ہفتے 26 مارچ کو الیکشن کمیشن نے بہادر آباد گروپ کے خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید جمیل کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے پی آئی بی گروپ کے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دے کر ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیو ایم پاکستان کی کنوینر شپ سے ہٹا دیا تھا۔تاہم فاروق ستار نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ‘سیاہ، غیر آئینی اور غیر منصفانہ ‘ قرار دیتے ہوئے اسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔ایم کیو ایم پاکستان کا تنظیمی بحران۔رواں برس فروری کے آغاز میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کی جانب سے کامران ٹیسوری کا نام سینیٹ امیدوار کے طور پر سامنے آنے پر پارٹی میں اختلافات نے سر اٹھایا جو بحران کی صورت میں تبدیل ہوگیا۔رابطہ کمیٹی نے کامران ٹیسوری کی رکنیت معطل کی تو فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کو معطل کردیا، بعدازاں سینیٹ انتخابات کے لیے فاروق ستار گروپ اور رابطہ کمیٹی اراکین کی جانب سے الگ الگ کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے۔اسی دوران رابطہ کمیٹی نے پارٹی سربراہ فاروق ستار کو قیادت سے نکال دیا اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو بھی خط لکھا گیا جسے بعدازاں واپس لے لیا گیا۔
نجی ٹی وی پر الزامات لگانے پر عمران خان کی مشکلات میں اضافہ ۔۔۔عدالت ے بڑی کارروائی کی خبر آ گئی
قیادت کی اس جنگ میں فاروق ستار کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات کا اعلان کیا گیا، جس کے نتیجے میں فاروق ستار بھاری اکثریت سے ایم کیو ایم کے کنوینر منتخب ہوئے، جسے بہادرآباد دھڑے نے ماننے سے انکار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا۔26 مارچ کو الیکشن کمیشن نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے پی آئی بی گروپ کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا اور فیصلہ سنایا کہ فاروق ستار اب ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیر نہیں رہے۔(ذ،ک)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2GSklSY
via IFTTT

No comments:
Write komentar