اسلام آباد(ویب ڈیسک)سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کیخلاف آئین شکنی کیس پر سننے والی خصوصی عدالت آج جمعرات کو سماعت کرے گی۔عدالت کی جانب سے سابق صدر کی واپسی کے حوالے سے کوئی حکم جاری کرنے کا امکان۔وزارت داخلہ کی سیکیورٹی کی یقین دہانی کے باوجودپرویز مشرف کی طرف سے واپسی
سے انکارکیا گیا ہے جب کہ امکان ہے کہ عدالت پرویز مشرف کی واپسی کے حوالے سے کوئی حکم جاری کریگی۔چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس یاور علی اوربلوچستان ہائیکورٹ کی جج جسٹس طاہرہ صفدر پر مشتمل 3رکنی عدالت مقدمہ کی سماعت کریگی۔دریں اثنا وفاق کی جانب سے نامزد پراسیکیوٹر اکرم شیخ عدالت کو ملزم کیخلاف یکطرفہ کارروائی کرنیکی استدعا کریں گے۔ادھر قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ پرویز مشرف یا ان کے وکیل کی طرف سے اس طرح کے جواز وطن واپس نہ آنے کے بہانے ہیں، وہ کسی صورت واپس نہیں آئیں گے۔دوسری جانب امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جنوبی ایشیاء اور وسطی ایشیاء کے لیے پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری ایلس ویلز سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایلس ویلز دورہ پاکستان کے دوران وزرات خارجہ کے حکام اور دیگر اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گی، جن کے دوران پاک-امریکا تعلقات، افغانستان، خطے اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ایلس ویلز اس سے قبل رواں سال جنوری میں بھی پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بھی ایلس ویلز کے دورہ پاکستان کی تصدیق کرتے ہوئے
بتایا گیا کہ اس دوران جنوبی ایشیاء کی حکمت عملی، دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کے عزم اور دونوں ملکوں کے مابین باہمی معاشی اور تجارتی روابط قائم کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوگی۔بیان میں اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ ایلس ویلز پاکستان میں کتنے دن قیام کریں گی، تاہم یہ ضرور بتایا گیا کہ وہ کراچی کا دورہ کریں گی، جہاں ان کی سینئر حکومتی عہدیداروں اور تاجر برادری سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ذرائع کے مطابق ایلس ویلز کا دورہ رواں برس کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی گئی دھمکی آمیز ٹوئیٹ کے بعد پاک-امریکا تعلقات میں آنے والے تناؤ کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم جنوری کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالر امداد دے کر حماقت کی جبکہ بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا۔بعدازاں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھی پاکستان کی سیکیورٹی معاونت معطل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا گیا۔(ذ،ک)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2GTmrln
via IFTTT

No comments:
Write komentar