منڈی بہاوالدین (ویب ڈیسک) ملک وال میں کم عمر لڑکوں کو اغواءکے بعد برہنہ ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے والے 15 رکنی گروہ کا انکشاف، پولیس تاحال ملزمان کو گرفتار نہ کر سکی۔منڈی بہاوالدین کے علاقے ملک وال میں 15 سے زائد اوباش نوجوانوں نے جھولے لعل نامی گروپ بنا رکھا ہے،
جو کم عمر لڑکوں کو اغواءکر کے زیادتی کا نشانہ بناتا ہے اور ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرتا ہے۔محلہ قصاباں کے رہائشی محمد رمضان کا بیٹا سیف الرحمن بھی اسی گروپ کا نشانہ بنا۔ گروپ کے افراد نے سیف الرحمن کو اغواءکیا اور زیادتی کی ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ متاثرہ لڑکے کے والد رمضان نے بتایا کہ میرے بیٹے کے علاوہ بھی متعدد بچوں کو یہ گروپ اغواءکر کے ویڈیوز بنا کر بلیک میل کر رہا ہے، جس کیخلاف پولیس تا حال کارروائی نہیں کر رہی۔جھولے لعل گروپ کے 3 سرغنہ ہیں، جن میں ارسلان شاہ، ارسلان موچی اور زین شاہ شامل ہیں۔دوسری طرف فوٹیج منظر عام پر آنے کے باوجود تاحال پولیس کسی بھی ملزم کو پکڑ نہیں سکی۔ تاہم میڈیا کے نوٹس میں آنے کے بعد پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چائلڈ پورنوگرافی یا بچوں کی فحش فلمیں اور تصاویر پھیلانے کے الزام میں ہسپانویپولیس نے 24 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار شدگان میں کئی دیگر ممالک کےشہریوں کے علاوہ پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔۔پولیس نے جب برطانوی شہری کو گرفتار کیا تو اس کے قبضے سے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی ہزاروں تصاویر برآمد ہوئیں،غیرملکی خبررساں
ادارے کے مطابق ہسپانوی پولیس نے 24 ایسے افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر شبہ ہے کہ وہ بچوں کی فحش تصاویر اور فلمیں انٹرنیٹ پر پھیلانے میں ملوث ہیں۔گرفتار شدہ افراد میں برطانیہ، گھانا، ایکواڈور اور پاکستان کے شہری شامل ہیں۔۔پولیس نے جب برطانوی شہری کو گرفتار کیا تو اس کے قبضے سے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی ہزاروں تصاویر برآمد ہوئیں۔ پولیس نے ایسے آٹھ دیگر افراد کی بھی شناخت کر لی ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ اس گروہ کا حصہ ہیں جو فیس بٴْک اور اسکائپ کے ذریعہ یہ غیر قانونی مواد انٹرنیٹ پر شیئر کرنے میں ملوث ہے۔ان مشتبہ افراد کو اسپین کے ملک کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا ہے جن میں میڈرڈ سے لے کر بارسلونا تک اورکینیری جزائر سے لے کر بالائرک جزائر تک کے علاقے شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں ایک پادری کے علاوہ ایک ایسا سابق گینگ ممبر بھی شامل ہے جو ایک اسکول کے کیفے ٹیریا میں کام کرتا تھا۔(ف،م)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2kZUv5n
via IFTTT

No comments:
Write komentar