سرگودھا(ویب ڈیسک)پیر آف سیال شریف نے این اے 90 میں تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر نادیہ عزیز، پی پی 77 میں چو دھری اقبال، پی پی 78 میں عنصر مجید نیازی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے ، پیر آف سیال شریف حمید الدین سیالوی کے سیاسی جانشین صاحبزادہ قاسم سیالوی نے
یہ اعلان گزشتہ روز ڈاکٹر نادیہ عزیز کی رہائشگاہ پر کیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں ہمارا دین، اس کے بعد ملک عزیز ہے ، جماعتی اور سیاسی وابستگیاں اس کے بعد ہیں، ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کرنے کی ناپاک سازش کی گئی جو کامیاب نہ ہو سکی ،ختم نبوت قانون میں ترمیم کرنے والی جماعت کی حمایت کا سوچ بھی نہیں سکتے ، اسی لیے ہم نے مسلم لیگ (ن) کی بھرپور مخالفت اور بڑی سوچ بچار کے بعد آخری لمحات میں تحریک انصاف کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے ، ملک بھر میں ہمارے مریدین و عقیدت مند پی ٹی آئی کے امیدواروں کو سپورٹ کریں گے۔اس موقع پر ملک عزیز الحق، عنصر مجید نیازی، چو دھری اقبال، نذیر خان نیازی سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے ڈاکٹر نادیہ عزیز کی رہائشگاہ آمد پر صاحبزادہ قاسم سیالوی کا استقبال کیا،اس موقع پر ڈاکٹر نادیہ عزیز نے حمایت کرنے پر پیر آف سیال شریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ناموس رسالت کے لئے ہماری جان بھی حاضر ہے۔جبکہ دوسری جانب اس سے پہلے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے جنرل سیکریٹری، صوبائی وضلعی عہدیداران نے کارکنوں سمیت اپنی پارٹی کو خیر باد کہتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کوبلوچستان سے بڑا دھچکا اُس وقت لگا کہ جب مسلم لیگ ن کے جنرل سیکریٹری نصیب اللہ بازئی نے 35 صوبائی و ضلعی عہدیدران کے ہمراہ حکومتی پارٹی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے الوداع کہا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی مرکزی قیادت کارویہ سردمہری کا تھا، کسی ایک شخص کے لیے پارٹی اورکارکنان کونظراندازکیاگیا جبکہ صوبے کے اہم فیصلےمرکز میں کیے گئے۔نصیب اللہ بازئی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کی مخالفت میں آنے والے بیانات سے ہم سب کی دل آزاری ہوئی۔مسلم لیگ ن کے سابق جنرل سیکریٹری نصیب اللہ بازئی کے ہمراہ خدا بخش لانگو، ساجد جسکانی، کمال خان اور نظام الدین کاکڑ نے بھی پارٹی کو خیرباد کہتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا، واضح رہے کہ نصیب اللہ بازئی آزاد حیثیت سے سینیٹر بھی منتخب ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ کچھ ماہ سے بلوچستان میں مسلم لیگ ن کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، گذشتہ برس بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں پیش کی جانی تھی تاہم اُس سے قبل ہی انہوں نے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کردیا تھاجس کے بعد اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ بنے تھے۔حکمراں جماعت مسلم لیگ ن نے ثناء اللہ زہری کو عہدے سے ہٹانے کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھاکہ اس کے پیچھے پیپلزپارٹی کا ہاتھ کارفرما ہے۔بعد ازاں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور دیگر بااثر سیاسی افراد نے نئی جماعت ’بلوچستان عوامی پارٹی‘ کے نام سے بنانے کا اعلان کیا جس کے بعد صوبے سے تعلق رکھنے والے اراکین نے نئی جماعت میں شمولیتوں کا سلسلہ شروع کیا۔رواں ماہ کی 6 تاریخ کو بلوچستان سےمنتخب ہونے والے مسلم لیگ کے 2 سابق وفاقی وزراء جام کمال، دوستین ڈومکی اور رکن قومی اسمبلی خالد کمال مگسی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔(ز،ط)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2MpnET2
via IFTTT

No comments:
Write komentar