Technology

Ads

Most Popular

Thursday, 28 June 2018

دانیال عزیز کے نا اہل ہوتے ہی مسلم لیگ (ن) نے ایسے امیدوار کا اعلان کر دیا کہ سب حیران رہ گئے

 

اسلام آباد(ویب ڈیسک)توہین عدالت کے مرتکب قرار دیے گئے سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز کا کہنا ہے کہ ہم نے ممکنہ طور پر متبادل فیصلہ کیا ہوا تھا اور میری جگہ والد انتخاب لڑیں گے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بعد کرتے ہوئے دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ

میرے والد نے میرے حلقے سے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہوئے ہیں اور اب وہ الیکشن لڑیں گے۔دانیال عزیز نے کہا کہ میرے خلاف تین الزامات تھے ، کچھ 8 ماہ اور کچھ 10 ماہ پرانے تھے اور عدالت نے پہلے چارج میں بری کیا جو ایک پریس کانفرنس سے متعلق تھا تاہم چند ماہ پہلے کے چارج پر عدالت برخاست ہونے تک سزا ملی۔ دانیال عزیز کے مطابق پہلے چارج کے واحد گواہ نے تسلیم کیا کہ میں نے وہ لفظ کہے ہی نہیں جب کہ عدالت میں ویڈیو چلائی تو مقامی چینل کی آڈیو میں ٹون چلی یعنی وہ لفظ بولے ہی نہیں گئے اور مقامی چینل کو وہ ویڈیو کسی اور ذریعے سے ملی تھی۔سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف تیسرا چارج عمران خان سے متعلق فیصلے پر ان کے چند جملے تھے۔دنیال عزیز نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے 5 سال جیل کاٹی تو وہ وزیر اعظم بن گئے، میں نے جیل کاٹی نہ یوسف رضا گیلانی کی طرح عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی جب کہ عدالتی فیصلے پر ہم نے لاک ڈاؤن یا اسلام آباد پر حملہ نہیں کیا۔دانیال عزیز نے مزید کہا کہ اداروں کو مضبوط کرنے کی تگ

و دو کی ہے، عدالتی فیصلہ پڑھ کر قانونی طور پر پیش رفت کریں گے۔یاد رہے کہ دانیال عزیز قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 نارووال ون سے انتخابات حصہ لے رہے تھے۔واضح رہے یاد رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ٹی وی ٹاک شوز کے دوران دانیال عزیز کے عدلیہ مخالف بیانات پر رواں برس 2 فروری کو توہین عدالت کا ازخودنوٹس لیتے ہوئے بنچ تشکیل دیا تھا۔13 مارچ کو دانیال عزیز پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کی گئی تھی، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔مذکورہ کیس کی 3 مئی کو ہونے والی آخری سماعت پر دلائل دیتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ دانیال عزیز نے نگران جج پر ریفرنس تیار کرانے کا الزام عائد کیا اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بریت اور جہانگیر ترین کی نااہلی کو اسکرپٹڈ قرار دیا۔دوسری جانب دانیال عزیز کے وکیل نے کہا تھا کہ ان کے موکل نے صرف عدالتی فیصلوں پر تنقید کی تھی، کسی جج سے متعلق تضحیک آمیز بیان نہیں دیا۔اس موقع پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے تھے کہ عدلیہ ایک ادارہ ہے، اس کی اتھارٹی نہیں رہے گی تو کیا رہ جائے گا؟سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے سابق وفاقی وزیر کے خلاف کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔(ذ،ک)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2N6be3V
via IFTTT

No comments:
Write komentar