Technology

Ads

Most Popular

Wednesday, 27 June 2018

میٹس کا انجام ٹیلرسن جیسا ہونے جارہا ہے

 

(تسنیم خیالی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ اور ان کا مزاج باقی امریکی صدور سے کافی نہیں بلکہ بالکل ہی مختلف ہے، اقتدار میں آنے کے بعد ٹرمپ نے بےشمار عہدیداروں کو برطرف کیا اور ان کی جگہ نئے افراد کو مقرر کیا، برطرف اور مقرر کرنے کا یہ سلسلہ ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور اس سلسلے کی جاری رہنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ اپنے ہی طرح کی لوگ اپنے اردگرد رکھنا چاہتے ہیں، برطرفی اور تقرری کے اس کھیل میں عنقریب امریکی وزیردفاع جیمیز میٹس کی قربانی ہونے جارہی ہےکیونکہ ’’انکی اور ٹرمپ کی آپس میں اب نہیں بن رہی‘‘۔

اس حوالے سے امریکی نیوز چینل ’’این بی سی‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ آج کل اپنے وزیر دفاع میٹس سے مشورے نہیں لے رہے اور انہیں نظرانداز کررہے ہیں، اخبار کے مطابق میٹس کا کردار کلیدی اور اہم امریکی فیصلوں میں کم ہوتا جارہا ہے، اور دونوں (صدر اور وزیر دفاع) کے درمیان پہلے کی طرح ہم آہنگی اور اتفاق نہیں پایا جارہا، ’’این بی سی‘‘ کا مزید کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ میں میٹس کا کردار ثانوی نوعیت کا ہوگیا ہے اور ٹرمپ اب زیادہ تر قومی سلامتی کے مشیر ’’جان بولٹن‘‘ اور وزیر خارجہ ’’مائیک پمپیو‘‘ سےصلاح مشورہ کرتے ہیں۔

امریکہ کے حالیہ اہم فیصلوں سے میٹس لاعلم تھے، مثال کے طور پر امریکہ کی ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے فیصلے سے میٹس لاعلم تھے، انہیں فیصلے کی خبر اپنے کیس کولیگ سے ملی جو امریکی کابینہ میں شامل ہیں، علاوہ ازین میٹس اس فیصلے سے بھی بے خبر تھے کہ امریکہ امسال جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں ملتوی کرنے جارہا ہے، میٹس اس فیصلے سے اس وقت باخبر ہوئے جب سنگاپور میں ٹرمپ اور شمالی کوریا کے صدرکم جونگ اون کے درمیان ملاقات کے دورا ن ٹرمپ نے اون سے مشترکہ مشقیں روکنے کا وعدہ کیا۔

’’این بی سی‘‘ کے بقول ٹرمپ کے نزدیک میٹس ان کے احکامات اور فیصلوں پر سنجیدگی سے عمل نہیں کرتا، ٹرمپ اور میٹس کے باہمی اختلاف کا ایک نمونہ یہ ہے کہ میٹس نے ٹرمپ اور اون ملاقات سے قبل واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ملاقات کے دوران امریکی افواج کی جنوبی کوریامیں موجودگی پر کسی بھی قسم کی بات چیت اور تبادلہ خیال نہیں کیا جائے گا البتہ ایسا نہیں ہوا، ٹرمپ نے اون کے ساتھ ملاقات کے دوران واضح طور پر کہا امریکہ کو جنوبی کوریا سے امریکی افواج کے انخلاء پر کوئی اعتراض نہیں اور ضرورت پڑنے پر انخلاء کے عمل میں تیزی بھی برتی جاسکتی ہے۔

ٹرمپ اور میٹس کے درمیان اختلافات کا سلسلہ چھوٹا نہیں بلکہ بڑا ہے اوران اختلافات میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے ، میٹس ٹرمپ کے برعکس سعودی عرب، امارات ، بحرین اور مصر کی طرف سے قطر کے بائیکاٹ کے مخالف ہیں، علاوہ ازیں میٹس ایرانی جوہری معاہدے سےامریکہ کی دستبرداری کے بھی مخالف ہیں، اس کے ساتھ ساتھ میٹس شمالی کوریا کے ساتھ نرمی برتنے کے بھی مخالفین میں شمار ہوتے ہیں یہی موقف سابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کا بھی رہا جس کی وجہ سے ٹیلرسن کو وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا تو کیا میٹس بھی اپنی وزارت سے ہاتھ دھونے جارہے ہیں؟

The post میٹس کا انجام ٹیلرسن جیسا ہونے جارہا ہے appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2yMDe9A
via IFTTT

No comments:
Write komentar