(تسنیم خیالی)
ایام حج کے آہستہ آہستہ قریب آنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے بھی اپنے پرانے حربے کو استعمال کرنا شروع کردیاہے، یہ بات تو اب سبھی کے علم میں آچکی ہے کہ سعودی عرب حج کے مقدس فریضے میں سیاست کو شامل کرچکا ہے اور اس کے ذریعے سیاسی دائوپیچ لڑاتا رہتا ہے، سعودی عرب حج کے کوٹوں کے ذریعے اسلامی ممالک پر اپنے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دبائو ڈالتا ہے اور اس دبائو کے ذریعے سعودی عرب سیاسی ، اقتصادی اور عسکری مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تبھی تو ہر سال سعودی عرب کے خلاف احتجاج کی صدا بلند ہوتی ہے اور سعودی عرب کے حج انتظامات سنبھالنے پر اعتراضات سامنے آتے ہیں،
حج سے قبل سعودی عرب ان اسلامی ممالک کے حج کوٹے میں اضافہ کردیتا ہے جنھوں نے سیاسی، اقتصادی اور عسکری اعتبار سے سعودی عرب کا ساتھ دیا ہو اور اس کی ہاں میں ہاں اور نامیں نا ملائی ہو، اسی طرح جن اسلامی ممالک نے ایسا نہ کیا ہوانکا حج کا کوٹا کم کر دیا جاتا ہے۔حسب معمول سعودی عرب ان حقائق یکسر مسترد کرتے ہوئے یہی کہتاآرہا ہے کہ سعودی انتظامیہ ہی حج کے انتظامات اور نگرانی تا قیامت کرتی رہے گی اور کسی اسلامی ملک کو دخل دینے کی اجازت نہیں دے گی ،البتہ بعض عرب اور اسلامی ممالک سعودیوں کی اس ضد کو قبول نہیں کرتے ،
ان کے نزدیک سعودی انتظامات کم ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ انتظامات حاجیوں کی جان بچانے میں ناکام ہوجاتے ہیں، چند روز قبل تیونس میں علماء دین کے اتحاد نے تیونسی مفتی اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امسال ’’بطلان حج‘‘ کا فتویٰ جاری کرے کیونکہ سعودی عرب دنیا بھر سے آنے والے حجاج سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مسلمانوں کے قتل عام میں استعمال کررہا ہے، علماء کے مطابق اس مطالبے کی کوئی سیاسی وجوہات نہیں بلکہ اس مطالبہ کا مقصد فقط یہ ہے کہ لوگوں کی توجہ حج سے حاصل ہونے والی رقوم کے استعمال کی طرف مبذول کی جائے۔
مراکش کے مشہور مذہبی سکالر شیخ عبدالحافظ صادق کہتے ہیں کہ سعودی عرب کا حج کو سیاست میں استعمال کرنا حج کے ذریعے اپنے مفادات کو بروئے کار لاکر ساتھ دینے والے ممالک، حکام اور صحافیوں پر دبائو ڈالنا اور حج سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے انہیں رشوت دیناشرعی لحاظ سے قطعی طور پر جائز نہیں ان کے مطابق سعودیوں کی یہ پالیسی گزشتہ سال حج میں نمایاں رہی ،جب انہوں نے بائیکاٹ کی وجہ سے قطری حجاج کو حج کرنے نہیں دیا اور اس سے قبل سعودی عرب ایسی ہی حرکت ایران ، شام اور یمن سمیت بہت سے ممالک کے ساتھ کرچکا ہے۔
دیکھاجائے تو سعودی عرب کی حج کے نام پر سیاست اور اسے اپنے ناپاک عزائم میں استعمال ناتو اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور ناہی اللہ تعالیٰ کے مہمانوں کی خدمت، یہ سب کچھ اپنے نظام کو قائم کرنے اور اس کی خدمت کیلئے کیا جارہا ہے، گویا سعودی نظام نے اسلامی مقدسات اور خانہ کعبہ کو اپنے پاس گروی رکھا ہوا ہے، اور اس بناء پر فوائد حاصل کررہا ہے، اعتراض صرف تیونس والوں کا نہیں! بلکہ ملائیشیا اور انڈونیشیا میں بھی سعودی عرب کی طرف سےحج فریضے کو سیاسی طور پر استعمال کرنے پر احتجاج ہورہا ہے،
انڈونیشیا والوں کا تو یہ بھی مطالبہ ہے کہ حج کے انتظامات میں تمام اسلامی ممالک شریک ہوں اور ذمہ داری صرف سعودی عرب کو نہ دی جائے۔دنیا بھر میں ہرسال سعودی عرب کی طرف سے ہونے والے حج انتظامات کے خلاف صدا بلند ہوتی جارہی ہے، مسلمانوں کے اعتراضات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لہٰذا تمام اسلامی وعرب ممالک کو یکجا ہوکر سعودی نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوکر اسے’’ حج میں سیاست‘‘کرنے سے باز رکھنا چاہیے کیونکہ پانی سر سے گزر چکا ہے اور سعودی نظام نے اس چیز کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے جس کی وجہ سے عالم اسلام کو کافی نقصان ہورہا ہے۔
The post سعودی عرب کی حج پر سیاست ، عالم اسلام آگ بگولا appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2Kc21cz
via IFTTT

No comments:
Write komentar