چوہدری نثار بمقابلہ قمر اسلام ۔۔۔۔۔نیب کے ہاتھوں گرفتارہونے والے (ن) لیگی رہنماء کی بیٹی ’ اسوہ السلام ‘ کی ایسی ویڈیو وائرل ہوگئی کہ مخالفین پر سکتہ طاری ہوگیا ۔۔۔۔اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیب میں قمراسلام کی گرفتاری کے بعد 12سالہ بیٹے سالار اور بیٹی اسوہ السلام نے انتخابی مہم چلانے
کا اعلان کیا تھا جس کے بعد آج قمر السلام کے بیٹے سالار قمر اور صاحبزادی اسوہ قمر نے بھی سیاست میں انٹری دے دی ہے۔سالار قمر اور اسوہ قمر آج ایک قافلے کی صورت میں راوپلنڈی کچہری پہنچے۔اس موقع پر ن لیگ کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔جنہوں نے قمر السلام کے بچوں کا پرجوش طریقے سے استقبال کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسوہ قمر کا کہنا تھا کہ یہ جلسہ نواز شریف کا جلسہ ہے۔اور یہ قافلہ نواز شریف کا قافلہ ہے۔روک سکو تو روک لو۔اس موقع پر اسوہ قمر نے ” ووٹ کو عزت دو ” کے نعرے بھی لگوائے۔یاد رہے راولپنڈی میں این اے 59 میں مسلم لیگ نکے امیدوارقمر السلام کونیب نے گرفتار کرلیا تھا،انجینئر قمر سلام مسلم لیگ ن کی
یہ بھی پڑھیں : بالی وڈ اداکار ’ بوبی دیول ‘ کو تو آپ جانتے ہی ہیں مگر انکا بیٹا کون اور کیا کرتا ہے؟ وائرل تصاویر نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا
جانب سے آزاد امیدوار چوہدری نثار کے مدمقابل امیدوار تھے۔؎تاہم قمر سلام کی گرفتاری کے بعد چوہدری نثار کیلئے انتخابی میدان میں ان کے بیٹے نے بڑی مشکل کھڑی کردی ہے۔قمر السلام کے 12 سالہ بیٹے سالار نے اعلان کیا ہے کہ چوہدری نثار کے مقابلے میں اپنے والد کی انتخابی مہم بھرپور انداز میں چلائیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ سب سے درخواست ہے کہ آپ سب میری طاقت بنیں۔انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ ہم الیکشن ہرحال میں جیتیں گے۔
بیٹے کے بعد اب بیٹی بھی والد کی طاقت بن گئی ہے۔ بیٹی اسوہ اسلام نے اعلان کیا کہ وہ اپنے والد کی بھرپورانتخابی مہم چلائیں گی۔ واضح رہے انجینئرقمرالسلام اپنے حلقے کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ انہوں نے بطور رکن پنجاب اسمبلی پنجاب بھر میں ووٹوں میں لیڈ لی تھی۔حلقے کے مقبول ترین رہنماء انجینئرقمرالسلام کونیب نے اس سے پہلے کبھی نوٹس بھیجا نہ ہی طلب کرکے شامل تفتیش کیا۔لیکن اب انہیں اچانک بلا کرگرفتار کرلیا۔ ویڈیو آپ بھی دیکھیں ۔
یہ بھی پڑھیں : آپ نے ریحام خان کو بہن کہا۔۔۔؟ صحافی کے سوال پر حنیف عباسی کا ایسا رد عمل سامنے آگیا کہ دیکھ کر ہر کوئی ششدر رہ گیا
from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2KoxgjS
via IFTTT

No comments:
Write komentar