Technology

Ads

Most Popular

Thursday, 28 June 2018

کیا مراکش میں ’’عرب بہار‘‘ کی لہر اٹھنے جارہی ہے؟

 

(تسنیم خیالی)
’’عرب بہار‘‘ کی اصطلاح کا اطلاق ان متعدد عرب ممالک میں زور پکڑنے والے عوامی احتجاجات پر کیا گیا جہاں عوام نے دہائیوں سے سراقتدار رہنے والے حکمرانوں کو دستبردار ہونے پر مجبور پر کیا ، عرب بہار کی واضح مثال ہمیں تیونس اور مصر میں ملتی ہے، جہاں اول الذکر میں زین العابدین بن علی کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور ثانی الذکر میں حسنی مبارک کو، اسی طرح کی ایک عوامی تحریک 2016ء سے مراکش کے بعض علاقوں میں شروع ہوئی، یہ احتجاجات اس وقت شروع ہوئےجب شمالی شہر ’’الحسیمہ‘‘ میں ’’محسن فکری‘‘ نامی ماہی فروش نےاپنی مچھلیوں کو بچاتےہوئےکچرے کو کچلنے والے ٹرک میں خود کو پھینک دیا تھا،فکری کی مچھلیوں کو کچرے کے ٹرک میں پولیس نے ڈالا تھا۔

اس افسوس ناک واقعہ کے بعد ’’الحسیمہ‘‘ اور اردگرد کے علاقہ مکینوںنے احتجاج کی تحریک شروع کردی، احتجاج کی قیادت ’’ناصر الزفزافی‘‘ نامی شخص نے کی
اور ان احتجاجات میں عوام نے بڑے پیمانے میں شرکت کی، جواب میں مراکش کی سکیورٹی فورسز نے احتجاج میں شریک ہزاروں افراد گرفتار کرلیے ، جن میں زفزافی اور ان کے چند ساتھی شامل تھے، گرفتاری کے بعد مراکش کی سکیورٹی عدالت نے زفزافی اور ان کے دیگر ساتھیوں پر ’’ملک کے امن واستحکام کو خطرے میں ڈالنے‘‘ کا مقدمہ دائر کیا، اس مقدمے کا فیصلہ آچکا ہے اور فیصلے کے مطابق الزفزافی کو 20سال قید کی سزا سنادی گئی ہے جبکہ بیسیوں دیگر کو بھی جیل اور جرمانوں کی سزادی گئی۔

مراکشی عوام کے نزدیک الزفزافی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ظلم ہوا ہے کیونکہ ان کی تحریک کرپشن اور بیروز گاری کے خاتمے اور ’’الحسیمہ‘‘ میں ترقیاتی منصوبوں کو متعارف کرانے کے غرض سےشروع کی گئی، الزفزانی کو ملنے والی لمبے عرصے کی جیل کی سزاکے بعد قوی امکان ہے کہ مراکش میں عوامی احتجاج میں اضافہ ہو اور اس بار وہ ملک میں رائج بادشاہت بھی ختم کرنے کا مطالبہ کریں، الزفزافی کی سزاکے بعد مراکش ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور ملک میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے، اور بلاشبہ اگر احتجاجی تحریک نے زور پکڑا تو بیرونی طاقتیں بھی اس معاملے میں مداخلت کرسکتی ہیں،بالخصوص امارات اور سعودی عرب جن کے تعلقات آج کل مراکشی فرمانروا شاہ محمد ششم کے ساتھ قدرے خراب چل رہے ہیں۔

مراکش کی اس صورتحال کو دیکھ کر تیونس اور مصرکی یاد آتی ہے اور پریشانی بھی لاحق ہوتی ہے کہ کیا واقعی عوام حکومت اور نظام کو بدلنا چاہتی ہے یا پھر یہ حکومت مخالف افراد وہ ہیں جو ملک دشمن کے آگے بکنے کے بعد ملک کو تباہی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں جیسا کہ شام میں ہوا؟

The post کیا مراکش میں ’’عرب بہار‘‘ کی لہر اٹھنے جارہی ہے؟ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2IwExsU
via IFTTT

No comments:
Write komentar