(تسنیم خیالی)
ترکی کے صدارتی وپارلیمانی انتخابات میں اردگان اور ان کی سیاسی جماعت ’’جسٹس اینڈ ڈولپمنٹ پارٹی‘‘ کی کامیابی کے بعد دنیا بھر میں بیشتر مسلمان خوشیاں منانے کے ساتھ ساتھ اردگان کی اس قدر تعریف کررہے ہیں کہ دیکھ کر حیرانگی ہوتی ہے، کوئی اسے ’’اسلامی لیڈر‘‘ کوئی ’’مرد آہن، کوئی ’’مرد مسلمان ‘‘ تو کوئی اردگان کو ’’اسلام کا وفادار لیڈر ‘‘قرار دے رہے ہیں جو کہ دراصل حقیقت سے کوسو ںدور ہے، اردگان کی کامیابی پر ہمیں افسردہ اور آنے والے وقت کےلیے ابھی سے تیاری کرلینی چاہیے خاص طور پر مشرقی وسطیٰ کے لوگوں کو جواردگان کے شر سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
اردگان نے نہ تو ترکی نہ مشرقی وسطیٰ اور ناہی عالم اسلام کو کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ پہنچایا، بلکہ آج مشرق وسطیٰ جس آگ میں جل رہا ہے اس آگ کو بھڑکانے میں رجب طیب اردگان کا کلیدی کردار ہے، لوگوں کا کہنا ہے کہ اردگان نے ترکی کی اقتصادی صورت حال کو بحال کیا ، ملک تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کی صف میں لاکھڑا کردیا ایساکہنے والے حضرات کو یاد دلاتا چلوں کہ اردگان نے یہ سب عراق اور شام سے چوری ہونے والے تیل کو فروخت کرکے کیا، جب دہشت گرد تنظیمیں عراق اور شام میں اپنے عروج پر تھیں توا س وقت یہ تنظیمیں دونوں ممالک کا تیل چوری کرکے ترکی کے توسط سے بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتی تھیں۔
اردگان نے گزشتہ سالوں میں عراق اور شام میں بہنے والے مسلمان خون سے ترکی کی معیشت کو بہتر کیا، ترکی کے حوالے سے مشہور ہے کہ عراق اور شام میں دہشت گرد اور ان کا جنگی سازو سامان ترکی کے ذریعے شام اور عراق میں داخل ہوئے، اگر واقعی میں اردگان نے ترکی کی اقتصادی صورتحال درست کی ہوتی تو انتخابات سے قبل محض دو مہینوں کے اندر امارات اور سعودی عرب کی سیاسی دائوپیچ کے باعث ترک کرنسی کی قیمت میں ریکارڈ کی کمی واقع نہ ہوتی ،ملک میں افراط اور بے روزگاری میں اضافہ نہ ہوتا۔
اردگان کو اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے مجرموں میں شمار کرنا بے جا نہیں ہوگا، اس بات کا اندازہ آپ یوں لگا ئیں کہ امریکہ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے بعد ترکی نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا خاتمہ نہیں کیا، یہ بات درست ہے کہ کچھ عرصہ قبل ترک حکام نے اسرائیلی سفیر کو ترکی سے نکال دیا البتہ ابھی تک ترکی کے اسرائیل کے ساتھ اقتصادی ، عسکری تعلقات بدستور قائم ہیں، تجارتی آمد ورفت اور لین دین جاری ہے، ترکی نے غیر قانونی طور پر اور شامی حکومت کی مرضی کے بغیر اپنی فوج شام میں داخل کررکھی ہے اور اردگان کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں وہ اپنی فوج کو شام میں مزید پیش رفت کرنے کا حکم جاری کریں گے۔
اسی ترک افواج کے کچھ دستے عراق میں بھی موجود ہیں جس کی اجازت عراقی حکومت نے کبھی نہیں دی، اور جب عراقیوں نے اردگان سےترک افواج کےعراق سے انخلاء کا مطالبہ کیا تو اردگان نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کو اپنی حد میں رہنے کا کہا، اب بھی ترک اپنی دوغلی پالیسیاں اردگان کے اقتدار میں پھر سے جاری رکھے گا، کبھی ترکی روس کے ساتھ کھڑادکھائی تو کبھی امریکہ کے ساتھ، کبھی اردگان امریکہ کے خلاف بیان بازی کرے گا تو کبھی روس کے خلاف ، کبھی اس پڑوسی ملک کو تباہ کرے گا تو کبھی اس ملک کو ۔
The post خوشی نا منائیں بلکہ مزید مشکلات کیلئے تیار ہوجائیں appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2N4bQqF
via IFTTT


No comments:
Write komentar