سیہون(ویب ڈیسک) سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو اپنے حلقے میں ووٹرز کے شکووں کا سامنا کرنا پڑگیا جس پر انہیں جان چھڑانا پڑی۔عام انتخابات کی آمد آمد ہے اور سیاسی جماعتوں کے امیدوار انتخابی مہم کےسلسلےمیں اپنے اپنےحلقوں کا دورہ کررہے ہیں لیکن اس بار بعض سیاسی رہنماؤں کو اپنے حلقے کے لوگوں کی طرف سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ پنوں عاقل کے دورے پر گئے جہاں ووٹرز نے ان سے تندو تیز سوالات کیے اور پوچھا کہ 10 سال حکومت میں رہنے کے باوجود آپ نے علاقے کے لیے کیا کیا؟نوجوان کے سوال پر خورشید شاہ جواب دینے سے قاصر رہے اور مسکرا کر چل دیئے۔خورشید شاہ کےبعد اب پیپلزپارٹی کے ایک اور رہنما اور سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بھی اپنے حلقے سیہون پی ایس 80 کے دورے میں ووٹرز کا سامنا کرنا پڑا۔سابق وزیراعلیٰ سندھ اپنی رہائش گاہ واہڑ سے باہر نکلے تو ایک ووٹر نے ان سے شکوہ کیا کہ آپ نے ہمارے لیے کیا کیا؟ میرے والد پیپلزپارٹی کے دیرینہ کارکن ہیں لیکن ہمارے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ووٹر کے سوال پر مراد علی شاہ نے پہلے تو اسے بہلانے پھسلانے کی کوشش کی لیکن ووٹر کےبار بار اصرار پر سابق وزیراعلیٰ نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئےکہ مجھے بھی سنو گے یا نہیں؟ووٹر کو بار بار ٹھنڈا کرنے کی کوشش میں ناکامی پر مراد علی شاہ وہاں سے چل دیئے جب کہ اس موقع پر ایک صحافی ویڈیو بنارہا تھا جسے سابق وزیراعلیٰ نے ویڈیو بنانے سے بھی منع کیا اور اس کے نہ ماننے پر کیمرے پر ہاتھ دے مارا۔(س)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2yLw6u1
via IFTTT

No comments:
Write komentar