(شہزاد احمد)
امریکی سرپرستی میں بھارت اور افغان انٹیلی جنس نے پاکستان میں مسلح افواج اور آئی ایس آئی کے خلاف منفی پروپیگنڈہ مہم تیز کر دی ہے۔ نام نہاد قوم پرست عناصر کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سیاسی طورپر مایوس عناصر بھی ان کا ساتھ دینے لگے ہیں۔ بھاری رقوم کے عوض اندرون اور بیرون ملک پراپیگنڈہ مہم بھی شروع کی جا چکی ہے۔امریکہ نے کیری لوگر بل کے بعد سے پاکستانی میڈیا ہاؤسز ، این جی اوز اور تھنک ٹینکس کیلئے 70 ارب ڈالر مختص کئے جن کا مقصد پاکستان میں امریکی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے سوا کچھ نہیں تھا۔
امریکی ایجنڈے پر ملک دشمن پروپیگنڈہ کرنے والی این جی اوز کے خلافکارروائی کے بعد اب پاکستان مخالف اداروں کی جانب سے میڈیا اور سیاسی کارکنوں میں موجود اپنے ایجنٹوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے اور ان کا ہدف حساس اداروں کو قرار دیا جارہا ہے۔ آئی ایس آئی پاکستان کی جانب سے وہ واحد ادارہ ہے جو ملک کے دیگر اداروں کی مدد سے بیرون ملک سے مسلط کردہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اس نے افغانستان سے آپریٹ ہونے والے دہشت گردی کے کئی نیٹ ورکس اور ان کے حمایتی اور فنانسرز کو بے نقاب کیا ہے ۔
پاکستانی حکومت نے آئی ایس آئی کی مدد سے حاصل کردہ ٹھوس ثبوت افغان اور امریکی حکام کو پیش کیے جن میں ثابت کیا جا چکا ہے کہ افغام سرزمین سے پاکستان کے خلاف را اور این ڈی ایس امریکی سربراہی میں دہشت گردی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ایک جانب ملک دشمن عناصر پروپگنڈے کی جنگ مسلط کرنے جا رہے ہیں تو دوسری جانب بلوچ نام نہاد قوم پرستوں اور بھٹکے ہوئے مذہبی عناصر جیسے داعش اور ٹی ٹی پی وغیرہ کے ذریعے دہشت گردی کی نئی لہر شروع کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔
دونوں مقاصد کیلئے بھاری رقوم جاری کی جا چکی ہیں اور افغانستان میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سازشوں کی اطلاعات بھی موصول ہو چکی ہیں۔ داعش اور ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کا مقصد اسرائیلی و بھارتی چودھراہٹ کا قیام اور پاکستان کا عدم استحکام ہے۔ ’’را‘‘ اورافغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس بلوچستان میں علیحدگی پسند جماعتوں بی ایل اے، بلوچ ریپبلکن آرمی اور بی ایل ایف کی نہ صرف مالی مدد کر رہی ہیں بلکہ کابل، نمروز اور قندھار میں قائم ٹریننگ کیمپوں سے دہشت گردوں کو خصوصی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔
افغانستان میں موجود ’’را‘‘ کے حکام ان دہشت گردوں کو افغانستان سے بھارت، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک بھجوانے کے لئے جعلی دستاویزات بنوانے میں بھی پیش پیش ہیں۔ بلوچ علیحدگی پسند رہنما براہمداغ بگٹی کے قریبی کمانڈر ریاض گل بگٹی کو احمد جاوید نامی ایک افغان کاروباری شخصیت ظاہر کر کے بھارت کا ویزا دیا گیا۔ ریاض گل بگٹی نے نئی دہلی میں بھارتی انٹیلی جنس حکام سے ملاقاتیں کیں اور تجویز پیش کی کہ بلوچ نوجوانوں کی عسکری تربیت کیلئے بلوچی انسٹرکٹر تعینات کئے جائیں تاکہ انہیں آسانی حاصل ہو۔ اس تجویز پر ’’را‘‘ نے اپنے اور افغان انٹیلی جنس کے حکام کے لئے بلوچی زبان کے کورس بھی کروائے۔
’’را‘‘ کے ایک ونگ نے تمام عالمی فورمز پر بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی تحریک کو ہوا دینے کا بیڑہ بھی اٹھا رکھا ہے۔ بین الاقوامی این جی اوز کے ذریعے سے انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ایک اعلیٰ امریکی کمانڈر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش میں موجود 70 فیصد جنگجوؤں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ہے جو ملک سے بے دخل کیے جانے کی بناء پر داعش کا حصہ بن گئے۔ اسلامک اسٹیٹ، خراسان صوبہ میں زیادہ تر ارکان کی اکثریت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ہے۔
صوبہ ننگرہار میں داعش کے کئی جنگجوؤں کا تعلق پاکستان کی اورکزئی ایجنسی سے ہے، جنہوں نے رواں برس کے اوائل میں داعش میں شمولیت اختیار کی۔ عسکریت پسند عراق اور شام میں اپنے ٹھکانوں سے اپنے انتہا پسند نظریے کو افغانستان اور دیگر ممالک میں منتقل کررہے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان،جماعت الا حرار اور داعش افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعما ل کر رہی ہیں۔افغانستان میں منشیات کی پیداوار دہشت گردی کی مالی امداد میں استعمال ہوتی ہے۔
دہشت گرد تنظیمیں داعش ،ٹی ٹی پی اور دیگر تنظیموں کا نیٹ ورک افغانستان میں موجود ہے۔افغانستان میں را کا نیٹ ورک موجود ہے جو دہشت گرد کاروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کے ثبوت افغانستان کو فراہم کیے ہیں۔ملا فضل اللہ او رسانحہ اے پی ایس کے ماسٹر مائینڈ افغانستان میں ہیں۔ ہم افغانستان میں افیون و منشیات کی پیداوار پر تحفظات رکھتے ہیں۔منشیات و افیون کی پیداوار دہشت گردی کی مالی امداد میں استعمال ہوتی ہے۔ٹی ٹی پی، داعش اور جماعت احرار افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
The post پاکستان کے خلاف داعش، ٹی ٹی پی گٹھ جوڑ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2MmkwY4
via IFTTT


No comments:
Write komentar