لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک اطالوی سیاسی ماہر نے کہا ہے کہ سعودی عرب اوردیگر علاقائی وہابی رژیموں نے علاقے میں انتہاپسند گروہوں کی جڑوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے بین الاقوامی قوانین کےمطابق ان اتنہاپسند گروہوں کے خلاف کامیاب مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔
ایک انٹرویو میں ’’اسٹیفن بونی لاری‘‘نےکہاکہ سعودی عرب اوردیگر علاقائی وہابی رژیموں نے علاقے میں انتہاپسند گروہوں کی جڑوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے بین الاقوامی قوانین کےمطابق ان اتنہاپسند گروہوں کے خلاف کامیاب مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے دشمنوں کے خطرناک تکفیری پروجیکٹ کامقابلہ کرنے کیلئے اپنے تاریخی اتحادیوں تحریک مقاومت حزب اللہ ،عراق ،شام اورروس کےساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی علاقے میں امن واستحکام کی برقراری پر مبنی ہے۔انہوں نے کہاکہ مغربی ممالک کا عرب حکومتوں خاص کر سعودیہ جو دنیا بھر میں انتہاپسند گروہوں کی سب سے بڑی حامی ہے کی مسلسل حمایت افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہاکہ عراق وشام میں سرگرم داعش ،جبہت النصرہ و دیگر تکفیری گروہوں کہ جنہیں سعودی عرب ،قطر ،ترکی،امریکہ واسرائیل کی حمایت حاصل ہے کا اکثر زیادہ تر تعلق یورپی شہروں سے ہے۔
انہوں نے دنیا میں جوہری ہتھیاروں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ امریکہ واسرائیل جیسے جارح ممالک اس ممانعت کو قبول نہیں کرتے کیونکہ اسے ان کا سامراجی اثرورسوخ محدو د ہوجائےگا ۔انہوں نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کا واحد ملک ہے کہ جس نے جوہری ہتھیار تیار کرنےیا اس کے استعمال کو حرام قراردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ جامع مشترکہ ایکشن پلان کا بہانہ بنا کر ایران کو دفاعی طورپر کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔
انہوں نے مزید کہاکہ جامع مشترکہ ایکشن پلان سے متعلق ٹرمپ کے موقف پر اسلامی جمہوریہ ایران کو سخت موقف اپنا کر دنیا والوں کو یہ باور کرانا ہوگاکہ ناکامی صرف اورصرف امریکہ کی ہوگی۔
The post سلفی وہابی تکفیری دہشتگرد گروہ سعودیہ ،قطر ،امریکہ و اسرائیل کے ایجنٹ ہیں:اطالوی ماہر appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.
from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2IXZ7Uj
via IFTTT


No comments:
Write komentar