اسلام آباد (ویب ڈیسک ) وزیرِ اعظم کی ہدایت پر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شاہراہ دستور کھول دی گئی، یہ اہم شاہراہ مشرف دور سے بند تھی۔ شہری برسوں بعد گاڑیوں میں پارلیمنٹ تک آنے جانے لگے۔شہرِ اقتدار میں پارلیمنٹ کے سامنے رکاوٹیں ختم، شاہراہ دستور ڈی چوک اور پارلیمنٹ تک جانے کیلئے اوپن کر دی گئی۔
شاہراہ دستور سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں کنٹینرز لگا کر بند کی گئی تھی۔ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے کے اقدام پر عوام خوش ہیں۔وزیرِ اعظم کے احکامات ملتے ہی ریڈ زون کی اہم شاہراہ سے کنٹینرز سمیت تمام رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔ گاڑیاں اور عام لوگ ڈی چوک، پریڈ گراؤنڈ اور پارلیمنٹ بلڈنگ تک بلا روک ٹوک آ جا رہے ہیں۔ رکاوٹیں ہٹا کر پولیس اور رینجرز کی نفری تعینات کر دی گئی۔یاد رہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے بعد شاہراہ دستور خیمہ بستی میں تبدیل، عارضی انقلاب سکول بھی قائم کردیاگیا، 85 طلباء کی پہلی غیر رسمی کلاس بھی لگادی گئی جس میں پہلے روز بچوں نے قومی ترانہ پڑھا اور پھر انہیں کھیل کود میں لگا دیا گیا، ملک کے سب سے بڑے قانون ساز ادارہ کے سامنے ریڑھی بانوں،خوانچہ فروشوں نے بھی قدم جمالئے، خیمہ بستی کے ساتھ ساتھ عارضی بازار بھی لگ گیا، ایزی لوڈسمیت بنیادی ضرورت کی ہر شئے میسر ، انتظامی کمیٹی کے سربراہ حامد جواد نے کہاہے کہ مخیر حضرات نے دل کھول کر امداد دی، امدادی اشیاء کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے لان کو مکمل طو رپر خالی کردیا اور اپنے خیمے اور ٹینٹ لان سے اکھاڑ کر ڈی چوک پر لگادیئے
جس کے بعد اب پارلیمنٹ ہاؤس کے بعد شاہراہ دستور خیمہ بستی میں مکمل طور پر تبدیل ہوچکی ہے اور پارلیمنٹ ہاؤس کا منظر ہی تبدیل ہوکررہ گیاہے۔ ”اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔6ستمبر 2014ء “ کے نمائندہ کے جائزہ کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کے انتظامات سے ایسا لگ رہاہے کہ جیسے یہ مستقل مکین نہ سہی مگر کم از کم 1سے 2 ماہ تک قیام کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کے مکمل انتظامات بھی کرلئے گئے ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کو مخیر حضرات کی جانب سے وافر مقدار میں اشیائے خورونوش کے علاوہ کمبل ، کھیس اور بستر بھی فراہم کئے گئے ہیں جن کو پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی رہنماکارکنوں میں گزشتہ رات سے ہفتہ کی شام تین بجے تک کرتے رہے جبکہ انفرادی طور پر بھی مخیر حضرات لوگوں میں چٹائیاں، کمبل اور کھیس تقسیم کرتے رہے جبکہ بچوں کیلئے ٹافیاں، بسکٹس اور خشک دودھ بھی تقسیم کیاگیا۔دوسری جانب پاکستان منہاج القرآن کے زیراہتمام عارضی کیمپ سکول بھی قائم کردیئے گئے اور بچوں اور ان کے والدین کو متوجہ کرنے کیلئے سکول کے قیام کا اعلان بھی کیاگیا بعدازاں جب بچے عارضی سکول میں آئے تو ان کی رجسٹریشن بھی کی گئی ہفتہ کے روز 85 بچوں کے نام رجسٹرڈ میں درج کئے گئے
اور ان کی غیر رسمی کلاس لگائی گئی ہے جس میں پڑھائی تو اس طرح شروع نہ کرائی جاسکی البتہ قومی ترانہ ، دعا پڑھی گئی اور تقریباً 2 سے اڑھائی گھنٹے یہ کلاس جاری رہی عارضی سکول کے دو الگ الگ خیموں میں کیمپ لگائے گئے ہیں ایک خیمہ میں پہلی جماعت سے پانچویں جماعت اور دوسرے خیمہ میں کلاس 6 سے 8 تک کی کلاسیں لگائی جائینگی ۔ اس سلسلے میں انتظامی کمیٹی کے سربراہ حامد جواد سے جب ”اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔6ستمبر 2014ء“ نے رابطہ کیا تو انہوں نے کہاکہ ہم ایک عظیم مقصد کیلئے آئے ہیں اور اپنے مقصد کے حصول تک یہاں سے نہیں جائینگے انہوں نے ایک اور سوال پر کہاکہ فی الحال خیموں ، کمبلوں و دیگر چیزوں کا ریکارڈ موجود نہیں کیوں پہلے اتنی تعداد میں خیمے یا دیگر اشیاء نہیں لے کرآئے تھے اب بدلتے موسم کے ساتھ ساتھ ان اشیاء کی ضرورت پڑی ہے جس پر قائد انقلاب ڈاکٹر طاہر القادری کی اپیل پر مخیر حضرات اپنے طور پر تقسیم کررہے ہیں اور کوئی پابندی نہیں ہے ہر شخص اپنی مرضی سے اشیاء تقسیم کرسکتاہے اس لئے اس کا ریکارڈ رکھنا مشکل ہے۔ ادھر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے خوانچہ فروشوں، ریڑھی بانو ں اور موبائل کارڈز ، ایزی لوڈ والوں نے بھی ڈیرے جمالئے ہیں اور خوب کمائی میں مصروف ہیں اس وقت ریڈزون جوکہ ڈرٹی زون میں تبدیل ہوچکاہے ایسی جگہ میں منتقل ہوچکاہے جہاں کپڑو ں سے لے کر جوتوں تک ہر شئے میسر ہے۔(ع،ع)
from Hassan Nisar Official Urdu News Website http://ift.tt/2CWth69
via IFTTT

No comments:
Write komentar