Technology

Ads

Most Popular

Thursday, 28 June 2018

قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ کے استعفیٰ سے عالمی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟ حیران کن خبر آ گئی

 

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایک روز قبل اپنے منصب سے انتہائی غیر متوقع طور پر مستعفی ہونے والے قومی سلامتی کےمشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ کابدھ کو اسلام آباد میں ایک مختصر غیر رسمی گفتگو کے دوران اپنے استعفے سے متعلق کہنا تھا کہ منتخب حکومت کی مدت مکمل ہونے

کے بعد ان کامستعفی ہوناضروری تھا تاہم نگران حکومت نے انہیں کچھ ذمہ داریاں سونپی تھیں جو انہوں نے مکمل کرلی ہیں اس کے بعد منصب پر رہنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ناصر جنجوعہ ریٹائرمنٹ سے قبل کورکمانڈر سدرن کمانڈ (کوئٹہ)تعینات تھے،انہوں نے اس دوران اہم خدمات انجام دیں جن میں بطور خاص بلوچستان میں مسلح افرادکو پرامن طریقے سے غیر مسلح کرنے اور پرامن زندگی گزارنے پر آمادہ کرنا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد 2015 اس وقت کی مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں انہیں وزیراعظم میاں نواز شریف کا مشیر برائے قومی سلامتی مقرر کیاگیاتھا۔ یہ ذمہ داریاں اس سے قبل سرتاج عزیز کے پاس تھیں جو وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ اموربھی تھے۔دوسری جانب امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم ممالک پر سفری پابندیوں کے حق میں فیصلہ دے دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن کے شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی جسے سپریم کورٹ کے ماتحت اپیلیٹ کورٹ نے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ نے اس عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس نے ابتدائی طور پر سفری پابندی کو جزوی طور پر بحال کیا تھا۔اب امریکی

سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے مسلم ممالک پر سفری پابندیوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔9 ججر پر مشتمل بینچ کے 5 ججز پابندی برقرار رکھنے کے حق میں جبکہ 4 نے اس کی مخالفت کی۔امریکی چیف جسٹس جان رابرٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ امریکی امیگریشن قوانین کے تحت صدر کے پاس سفری پابندیوں کا صوابدیدی اختیار موجود ہے لہٰذا ان کا یہ اقدام غیر آئینی نہیں۔عدالت نے فیصلے میں مذہبی بنیادوں پر سفری پابندیوں کے دعووں کو مسترد کیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ میں اس مقدمے پر 16 ماہ تک دلائل کا سلسلہ جاری رہا ہے جس کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عدالتی فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔سفری پابندی کے مطابق مسلم اکثریتی ممالک ایران، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن سے تعلق رکھنے والے مہاجرین اور ویزا رکھنے والے افراد امریکا میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔اس پابندی کا اطلاق شمالی کوریا اور وینزویلا کے شہریوں پر بھی ہوگا تاہم اس پابندی کے جن حصوں کو چیلنج کیا گیا تھا اس میں ان دونوں ممالک پر پابندی کا معاملہ شامل نہیں تھا۔(ذ،ک)



from Hassan Nisar Official Urdu News Website https://ift.tt/2lEdzq8
via IFTTT

No comments:
Write komentar