Technology

Ads

Most Popular

Friday, 27 April 2018

عراقی انتخابات پر اثرانداز ہونے کےلئے امریکہ کیا کرسکتا ہے؟

 

(تسنیم خیالی)
عراق میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کی گھڑی قریب آگئی ہے جوکہ عراقیوں کی دہشت گردی سے نجات کے بعد پہلے انتخابات ہوں گے، ہمیشہ کی طرح اس بار بھی انتخابات میں امریکی دخل اندازیاں اور ان انتخابات پر اثرانداز ہونے کی باتیں زبان زدعام ہوگئی ہیں، ویسے تو امریکہ کی یہی کوشش ہے کہ کسی طرح انتخابات فی الوقت منعقد نہ کرائے جائیں یا پھر کم از کم انتخابات میں وہ لوگ منتخب ہوں جو عراقی عوام کی خواہشات پر پورا نہ اتریں، امریکہ آخر دم تک عراقی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا رہے گا اوراس ضمن میں امریکہ نے متعدد آپشنز پر عمل شروع کردیا ہے۔

نمبر ایک: انتخابات کو ملتوی کرنے کا آپشن:
اس ضمن میں امریکہ نے بعض گروپوں کو انتخابات ملتوی کرنے پر اکسایا، جیسا کہ سنی مسلک سے تعلق رکھنے والی بعض مذہبی وسیاسی جماعتیں جنکا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں انتخابات ملتوی کئے جائیں کیونکہ انتخابات سے انکے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اس بہانے کے علاوہ مذکورہ جماعتوں نے اور بھی بہت سے بہانوں کے ذریعے انتخابات ملتوی کرنے کی کوشش کی تھی البتہ عراقی الیکشن کمیشن نے ان کوششوں کو ناکام بنادیا۔

نمبر دوم: ایران اور روس پر الزامات عائد کرنا:
عراق میں شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے امریکہ آئے دن ایران پر الزامات عائد کرتا رہتا ہے کہ وہ عراقی انتخابات میں بھر پور طریقے سے دخل اندازی کررہا ہے، اس ضمن میںامریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے بھی حال ہی میں اس قسم کے الزامات ایران پر عائد کیے ہیں، ایران کے علاوہ امریکہ نے روس پر بھی عراقی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے الزامات عائد کرنا شروع کردیا ، اپنے ان الزامات کودرست ثابت کرنے کےلئے امریکہ نے متعدد عراقی سیاسی شخصیات کو استعمال کرنا بھی شروع کردیا ہے، مثال طور پر عراقی صدر کے نائب ایاد علاوی کئی مرتبہ عراقی ٹی وی چینلز پر کہہ چکے ہیں کہ ایران عراقی انتخابات میں مداخلت کررہا ہے ،جسے روکنے کی ضرورت ہے، جبکہ تمام تر شواہد یہی کہتے ہیں کہ ایران اور روس انتخابات میںمداخلت نہیں کررہے جبکہ امریکہ مداخلت کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔

نمبر تین: عراق کے شیعوں میں اختلاف پیدا کرنا:
عراقی انتخابات میں اس بار شیعہ سیاسی جماعتوں کی بڑی تعداد شرکت کررہی ہے جبکہ پہلے ایساکبھی نہیں ہوا، دیکھا جائے تو یہ شیعوں کےلئے مثبت پہلو ہونے کے ساتھ ساتھ منفی پہلو کا بھی حامل ہے کیونکہ امریکہ اس طرح خود شیعوں کے اندر اختلافات پیدا کرنے کی کوشش رہا ہےاور اس کوشش میں سعودی عرب بھی پیش پیش ہے جو اس سارے منصوبے کی فنڈنگ کررہا ہے ۔

نمبر چار: شیعہ سیاسی جماعتوں کے مدمقابل سیاسی اتحاد قائم کرنا
امریکہ کچھ عرصے سےشیعہ سیاسی جماعتوں کے مدمقابل دیگر جماعتوں پر مشتمل متعدد سیاسی اتحاد قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور اس غرض کےلئے امریکہ پیسے بھی صرف کررہا ہےاور یہ سب کچھ امریکی انٹیلی جنس ادارہ ’’سی آئی اے‘‘ کررہا ہے۔

نمبر پانچ: کرد اور اہل سنت کو شیعوں کے خلاف متحد کرنا
امریکہ نے عراق میں سب سے پہلے سنیوں کو شیعوں کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کی اور ناکامی کے بعد امریکہ نے پھر شیعوں کے خلاف اہل سنت اور کرد عوام کو متحد کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش بھی ناکام رہی مگراس کے نتیجے میں آج عراق کی فیڈرل حکومت اور کردستان کی حکومت کے درمیان امریکہ کی وجہ سے معاملات ٹھیک نہیں۔

نمبر چھ: سعودی ولی عہد کا دورہ عراق کو کامیاب بنانے کی کوشش
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ممکنہ دورہ عراق امریکی منصوبوں کا حصہ ہے اور امریکہ نے اس دورے کی پذیرائی کےلیے میڈیا کا بھر پور استعمال کیا البتہ عراقی حکومت نے اس دورے کی تصدیق نہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بن سلمان کے دورہ عراق کا وقت تا حال متعین نہیں کیا جاسکا۔

نمبر سات: عراق عوام میں انتخابات اور اس کے نتائج کے خلاف مایوسی پھیلانا
اس وقت امریکہ عراقی عوام کے دلوں میں انتخابات ، اس کے نتائج اور آنے والی حکومت کے خلاف مایوسی پیدا کررہا ہے مثلاً انتخابات سےعراق کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا، آنے والی حکومت ناکام ہوگی ،قیام امن اور معاشی استحکام حاصل نہیں ہوگا ،جیسی باتیں عراقی عوام کے درمیان پھیلائی جارہی ہیں۔

عراقی انتخابات عراق اورعراقی عوام کےلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں بالخصوص اس لئے کہ عراقیوں نے دہشت گردی کو شکست دے دی ہے اور اب ملک کوآگے بڑھانے کی ضرورت ہے جو کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو قابل قبول نہیں اور اس بات کا ادراک عراقیوں کا کرلینا چاہیے اور کسی بھی سازش سے بچنا چاہیے کیونکہ بات کسی ایک عراقی کی نہیں بلکہ عراقی ریاست اور پوری عراقی عوام کی بات ہے۔

The post عراقی انتخابات پر اثرانداز ہونے کےلئے امریکہ کیا کرسکتا ہے؟ appeared first on Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ.



from Iblagh News | حقائق تک رسائی اور ان کا ابلاغ https://ift.tt/2vQEqHA
via IFTTT

No comments:
Write komentar